STORY DESCRIPTION:
یہ محض جنگ کی روداد نہیں بلکہ فلسطین کی زندہ روح کا بیانیہ ہے—ایسی ثقافت کا نقشہ جسے نہ بارود مٹا سکا نہ ملبہ دبا سکا۔ معتز اور رہف کی کہانی، جو محمود درویش کی شاعری سے جڑی ہے، غزہ کے ملبے میں امید اور مزاحمت کی لازوال آواز ہے
Zaitoon ki gawahi by Uswa Noor Afsana

Bohat Khoob🙌🏻✨
It’s a treat to read. ⭐
What a delightful read!
یہ کہانی صرف ایک زمین کا قصہ نہیں، بلکہ ہر اس فلسطینی روح کی پکار ہے جو زیتون کے درختوں کی جڑوں میں اپنی تاریخ اور اپنا حق ڈھونڈتی ہے۔
ہر گرا ہوا زیتون کا پھل، ہر اُجڑا ہوا درخت، قابض کے ظلم کی وہ گواہی ہے جسے نسلیں اپنی مٹی سے بچھڑ کر بھی نہیں بھول سکتیں۔
یہ واقعی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
فلسطین کے لوگوں کے جذبات کی عکاسی بہترین الفاظ سے کی گئی ہے 🤍it’s worth reading if you want to feel the pain of the people of palestine
السلامُ علیکُم ورحمتُہ اللّٰہ وبرکاتُہُ
آج کا تبصرہ مُصنفہ اسوہ نور کی تحریر “زیتون کی گواہی” کے حوالے سے ہے
کہانی کا موضوع فلسطین میں جاری دہشت گردی ہے
کسی ایک فرد کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کرنے کے بجائے مصنفہ نے مختلف افراد اور خاندان کو درپیش حالات کی عکاسی کی ہے
بہترین منظر نگاری اور خوبصورت اردو کا استعمال کرکے مصنفہ نے اس مختصر تحریر کو چارچاند لگادیے ہیں
فلسطینی ثقافت، وہاں کے کھانے اور ان کا رہن سہن ہر چیز بہت مہارت سے لکھی گئی ہے
مصنفہ کا اندازِ بیاں بہت مختلف اور اچھا ہے- اردو اور منظرنگاری اتنی زیادہ زبردست ہے کہ آپ خود کو ان حالات کے درمیان محسوس کریں گے
کہانی کا اختتام بھی بہت پرسکون تھا اور محمود درویش کے الفاظ بھی بہت پیارے تھے
میں چاہوں گا کہ آپ سب یہ خوبصورت تحریر ضرور پڑھیں
اُمید ہے کہ مُصنفہ آگے بھی مزید اچھی تحریریں قلمبند کرتی رہیں گی
اللّٰہ مُصنِّفہ کے قلم میں برکت عطا فرمائے
السلامُ علیکُم ورحمتُہ اللّٰہ وبرکاتُہُ
جزاکم اللہ خیراً۔ آپ نے نہایت خوبصورتی اور پوری بصیرت کے ساتھ تبصرہ کیا، جس پر میں آپکی شکرگزار ہوں۔ اندازِ بیان میں جو وقار اور وضاحت ہے، وہ قابلِ قدر ہے۔
زیتون کی گواہی پڑھ کر میں چند لمحوں تک بالکل سنّ سی بیٹھی رہی۔ یہ صرف ایک افسانہ نہیں، ایک چیخ ہے جو اندر کہیں جا کر اَٹک جاتی ہے۔ ہر جملے میں ایک ایسا درد ہے جو پڑھنے والے کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے سارے آرام اپنی ساری خاموشیاں دوبارہ سوچے۔ کرداروں کے احساسات اتنے سچے لگتے ہیں کہ آپ چاہ کر بھی ان سے الگ نہیں ہو پاتے۔ یہ تحریر دل کو ہلا دیتی ہے… اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔