STORY DESCRIPTION:
انتساب: یہ تحریر اُن مظلوموں کے نام، جن کا سچ فائلوں میں دفن ہو گیا اور جنہیں انصاف کے بدلے صرف خاموشی
ملی۔
یہ کہانی ہمارے معاشرے کے اس بھیانک چہرے کی عکاسی کرتی ہے جہاں انصاف محض ایک بکاؤ مال بن چکا ہے۔ :
ارسالن، ایک عام نوجوان جو بااثر طبقے کے ظلم کا شکار ہوتا ہے، خاموشی اختیار کرنے کے بجائے لڑنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ مگر وہ اس
حقیقت سے بے خبر تھا کہ وہ جس جنگل میں انصاف کا طلب گار ہے، وہاں قانون ظالم کی جیب میں اور منصف طاقتور کے قدموں میں ہوتا
ہے۔
جب حقیقت کو ‘حادثے’ کا لبادہ پہنا کر سچ کو سڑک پر کچل دیا جائے، اور جب ایک باپ اپنے بیٹے کے خون کا سودا ‘جھوٹی معاشرتی
غیرت’ کے نام پر کر لے، تو ضمیر مر جایا کرتے ہیں۔ یہ محض ایک قتل کی داستان نہیں، بلکہ اس معاشرتی رویے کا نوحہ ہے جو مظلوم
کو جیتے جی رسوا کرتا ہے اور مرنے کے بعد بھی اس کے کردار پر انگلیاں اٹھاتا ہے۔
کیا مقتول کا سچ فائل بند ہونے کے ساتھ ہی دفن ہو جائے گا؟ یا وہ آخری آنسو جو پتھر بن کر گال پر ٹھہر گیا، کبھی اس بوسیدہ نظام کو آئینہ
دکھا پائے گ
FATHIMA’S OTHER NOVELS
Ek Likhari Apni Tehreer Ka Pehla Qari Khud Hota Hai By Fathima
Sati ek Rasam by Fathima
jab jung hoti hai by Fathima -Complete
Mein bhi insan hoon by Fathima-Complete
