STORY DESCRIPTION:
“اور دھوپ میں بارش ہونے لگی” میرا تیسرا ناول ہے۔ یہ کہانی ہے دھوپ چھاؤں جیسا مزاج رکھنے والے دائود عالم کی اور ساون کی بارش کی طرح ٹوٹ کر برسنے والے کرداروں کی۔
اس کہانی میں چار کردار ہیں: عالم، عشل، موسیٰ اور فارحہ۔ چاروں اپنے اپنے رنگ رکھتے ہیں مگر کبھی کبھی یہ رنگ ایک دوسرے میں گھل جاتے ہیں۔
عالم اور عشل کی زندگی ایک مجبوری کے دھاگے میں بندھی ہوئی ہے۔ ساتھ رہ کر بھی ساتھ نہیں۔ ہر لمحہ ضد، ہر پل جھگڑا۔ جیسے دھوپ اور بارش، جنہیں ایک دوسرے کا ہونا بھی برداشت ہے اور نہ ہونا بھی۔ مگر سوال باقی ہے… کیا نفرت کے بیچ محبت کا بیج کبھی پھوٹ سکے گا؟
فارحہ کی زندگی ایک الجھی ہوئی دور کی مانند ہے۔ باہر سے سادہ، اندر سے پیچیدہ۔ اس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی پر اعتماد نہیں کر پاتی۔ محبت سامنے آ بھی جائے تو وہ آنکھیں پھیر لیتی ہے۔
موسیٰ بن محمد اس کہانی کا وہ کردار ہے جو محبت کی زبان سمجھتا ہے۔ مگر اس کے حصے میں ہمیشہ دھوپ کی تپش اور رات کی تنہائیاں آئیں۔ ہجر اس کی تقدیر بن گیا ہے۔ سوال یہ ہے کیا کبھی ستاروں کی چھاؤں اسے بھی نصیب ہوگی؟ کیا کبھی محبت اس پر مہرباں ہو گی؟
یہ ناول انہی چاروں کرداروں کی کہانی ہے۔ دھوپ اور چھاؤں کی۔ ہجر اور وصال کی۔ رشتوں کے بوجھ اور دل کی چاہت کی۔ کبھی دھوپ چبھتی ہے، کبھی بارش ٹوٹ کر برستی ہے۔ اور انہی کے بیچ زندگی اپنی اصل کہانی لکھتی ہے۔
FAREEHA MIRZA’S OTHER NOVELS
Chlo wafa ke dais chlty hein By Fareeha Mirza
Chlo wafa ke dais chalty hein by Fareeha Mirza Epi 1
Qawam by Fareeha Mirza
